27 دسمبر 2011 - 20:30

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ، وزارت خارجہ کے اہلکاروں اور بیرون ملک سفراء کے ساتھ ملاقات میں علاقہ میں جاری اسلامی بیداری اور مغربی ممالک کے حوادث کو بہت ہی اہم اور بے نظیر قرار دیا.

ابنا: رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ، وزارت  خارجہ کے اہلکاروں اور بیرون ملک سفراء سے خطاب کرتے ہوئے علاقے میں جاری اسلامی بیداری کی تحریکوں اور مغربی ممالک کے واقعات کو بہت ہی اہم اور بے مثل قراردیتے ہوئے فرمایا: ملک کے سفارتی ادارے کو ان حساس اور پیچیدہ حالات میں  اسلامی نظام کے نئے حرف  یعنی  معاشرے میں عوام کی وسیع پیمانے پر موجودگی اور الہی اقدار کے مؤثرو مفید  نقش کی تشریح  کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے وزارت خارجہ کے حکام اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بیرون ملک سفراء کو سفارتی شعبہ میں  بین الاقوامی سطح پر جاری عظیم پیکار کی فرنٹ لائن پر سر گرم گروہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ممالک کے باہمی مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے سفارتکاری ایک چیلنج اور مقابلہ کا میدان ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتی ادارے کی سرگرمی اور کارکردگی دنیا میں رائج سفارتی سرگرمیوں سے ماوراء ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سفراء ایسے نظام کے نمائندےہیں جس کی اسلامی حقیقت کے ساتھ سامراجی طاقتوں کا گہرا ٹکراؤ اورمقابلہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلام کے نام سے سامراجی محاذ پر طاری خوف ووحشت اور تشویش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی طاقتوں کے ظلم و ستم پر مبنی اصولوں کےساتھ  اسلام ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے اور اسی وجہ سے  عالمی منہ زور اور سامراجی طاقتیں اسلام کی طرف قوموں کے رجحان سے خوفزدہ ہیں جیسا کہ علاقہ کے حالیہ واقعات ، قوموں کے مظاہروں میں اسلامی نعروں اور نشانوں اور انتخابات میں اسلام پسندوں کی کامیابی کے بارے میں انھوں نے آشکارا اپنےخوف و وحشت کا اظہار کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے  اسلامی نظام کے ساتھ عالمی سامراجی طاقتوں کی دشمنی اور خصومت  کی تشریح کی اور اسلامی جمہوریہ کی تشکیل میں اسلام کے نقش و کردار، ایرانی عوام کی گذشتہ تین دہائیوں میں پیشرفت و ترقی  کو ایک بے مثال وبے نظیر نقش قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی عوام کا منتخب نظام، اسلام کے نام سے، اسلامی نعروں کو ممتاز اور نمایاں کرنے کے ساتھ آگے بڑھا ہے اور اس سرزمین کے بسیجی و رضاکارجوانوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی ، نینو ٹیکنالوجی اور علوم و فنون اور صنعت و ٹیکنالوجی کے مختلف میدانوں میں قابل فخر اور مایہ ناز کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سامراجی طاقتیں بھی اسی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مخالف اور معاند ہیں کیونکہ اسلام کی بدولت  اسلامی جمہوریہ ایران نے ترقی و پیشرفت حاصل کی ہے۔

.......

/169